ممبئی8اپریل (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) شیوسینا کو اطمینان کرنے کے لئے بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ کی کوششوں اور تجویز کے باوجود پارٹی نے کہا ہے کہ انتخابات میں اکیلے اترنے کی اس حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہیں ہو گی۔بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ نے چھ اپریل کو یہاں پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ بی جے پی کو اس بات کی امید ہے کہ ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیوسینا این ڈی اے میں شامل رہے گی۔شاہ نے کہا تھا کہ وہ (شیوسینا) اب ہمارے ساتھ حکومت میں ہے، ہماری شدید خواہش ہے کہ وہ ہمارے ساتھ ہی رہے۔شیوسینا نے اس سال جنوری میں اعلان کیا تھا کہ آئندہ لوک سبھا انتخابات اور مہاراشٹر اسمبلی انتخابات پارٹی بی جے پی کے ساتھ نہیں لڑے گی؛ بلکہ اکیلے میدان میں اترے گی۔ مہاراشٹر اور مرکز کی بی جے پی کی قیادت والی مخلوط حکومت میں شیوسینا شامل ہے ؛لیکن دونوں حکومتوں کی پالیسیوں اور فیصلوں کی پارٹی اکثر تنقید کرتی رہتی ہے۔ شیوسینا کے سینئر لیڈر سبھاش دیسائی نے کہا ہے کہ بی جے پی نے اچانک اپنا سرُ بدل لیا ہے اور اب وہ این ڈی اے میں اپنے ساتھیوں کے بارے میں بات چیت کر رہی ہے۔امیت شاہ نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ 2019 میں بھی ہم این ڈی اے کی حکومت بنائیں گے اور بی جے پی (اپنے طور پر لوک سبھا انتخابات میں) اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کرے گی۔ تھانے میں گزشتہ رات دیسائی نے ایک جلسہ عام میں کہا کہ ہمیشہ اپنے طور پر اقتدار میں آنے کا دعویٰ کرنے والی بی جے پی کو اب اپنے دوستوں کی یاد آ رہی ہے۔گزشتہ چھ ماہ میں ان کا سر بدل گیا ہے ، اب یہ این ڈی اے کے بارے میں بات کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹھاکرے ریاست میں اور پارٹی میں سب سے زیادہ مقبول لیڈر ہیں، ان کی قیادت میں پارٹی اپنے طور پر مہاراشٹر کے اقتدار میں لوٹے گی۔ شیوسینا لیڈر نے کہا کہ پارٹی سربراہ کہہ چکے ہیں کہ ہم اکیلے الیکشن لڑیں گے اور تمام پارٹی کے کارکنان کو اس مقصد کے تحت اپنی خدمات انجام دیں گے۔انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی ایک پالیسی ہے کہ پہلے وہ اپنے ساتھیوں کا سیاسی فائدہ کے لئے استعمال کرتی ہے اور بعد میں انہیں نکال باہر کرنے میں بھی دریغ نہیں کرتی ہے ۔دیسائی نے کہا کہ گوا میں انہوں نے اپنی جڑیں مضبوط کرنے کے لئے مہاراشٹروادی گومانتک پارٹی کا استعمال کیا اور مہاراشٹر میں انہوں نے شیوسینا کی مدد سے اپنی مضبوط کری ؛لیکن شیوسینا ایم جی پی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ صرف شیوسینا ہی نہیں بلکہ پورا ملک بی جے پی کے تکبر کو دیکھ رہا ہے۔